Wednesday, 7 July 2021

کیوں بناتا ہے بار بار مجھے

 کیوں بناتا ہے بار بار مجھے

کوزہ گر چاک سے اُتار مجھے

یوں نہ ہو تاب ہی نہ لائے کوئی

اس قدر کر نہ تاب دار مجھے

جاتے جاتے فقیر بستی سے

کر گیا مجھ پر آشکار مجھے

پسِ دیوار دیکھ سکتا ہوں

نظر آتا ہے آر پار مجھے


قیصر عباس

No comments:

Post a Comment