سر پہ دستار رکھے ہاتھ میں کاسہ رکھے
کون اب جان پہ اپنی یہ تماشہ رکھے
کوئی دریا نہ بجھا پایا مِری تشنہ لبی
اب کوئی لائے مِرے ہونٹوں پہ صحرا رکھے
اس کو ٹھکرا دوں اگر سر پہ بٹھا لے گی مجھے
میں جو پھرتا ہوں ابھی سر پہ یہ دنیا رکھے
ایک مدت سے نہیں دیکھا ہے چہرہ ان کا
ایک مدت سے ہے آنکھیں مِری روزہ رکھے
اس سے کم پر کبھی راضی نہیں ہوتے معشوق
عشق جو دل میں رکھے سر کا بھی سودا رکھے
بے وفا سے بھی نبھائے کوئی کب تک دانش
صبر بھی رکھے تو آخر کوئی کتنا رکھے
حنیف دانش اندوری
No comments:
Post a Comment