Wednesday, 7 July 2021

گم صم ہوا کے پیڑ سے لپٹا ہوا ہوں میں

 گم صم ہوا کے پیڑ سے لپٹا ہوا ہوں میں

کتبے پہ اپنے ہاتھ سے لکھا ہوا ہوں میں

آنکھوں میں وسوسوں کی نئی نیند بس گئی

سو جاؤں ایک عمر سے جاگا ہوا ہوں میں

یا رب رگوں میں خون کی حدت نہیں رہی

یا کرب کی صلیب پہ لٹکا ہوا ہوں میں

اپنی بلندیوں سے گروں بھی تو کس طرح

پھیلی ہوئی فضاؤں میں بکھرا ہوا ہوں میں

پتے گرے تو اور بھی آسیب بن گئے

وہ شور ہے کہ خود سے بھی سہما ہوا ہوں میں

شاخوں سے ٹوٹنے کی صدا دور تک گئی

محسوس ہو رہا ہے کہ ٹوٹا ہوا ہوں میں

وہ آگ ہے کہ ساری جڑیں جل کے رہ گئیں

وہ زہر ہے کہ پھول سے کانٹا ہوا ہوں میں

کٹتے ہوئے تنے کا بھی نوچا گیا لباس

گر کر زمیں پہ اور بھی رُسوا ہوا ہوں میں

افضل میں سوچتا ہوں یہ کیا ہو گیا مجھے

مٹی ملی تو اور بھی چٹخا ہوا ہوں میں


افضل منہاس

No comments:

Post a Comment