Friday, 9 July 2021

کسی کے درد سے وہ آشنا ہوتا تو کیا ہوتا

کسی کے درد سے وہ آشنا ہوتا تو کیا ہوتا 

کسی کے دل میں گر خوفِ خدا ہوتا تو کیا ہوتا 

خوشی رہ کر سدا مجھ سے وہ حکمِ قتل دیتا ہے 

خدا جانے اگر وہ بُت خفا ہوتا تو کیا ہوتا 

ابھی بندہ ہے وہ اس پر بھی اتنی ظلم رانی ہے 

خداوندا! اگر بندہ خدا ہوتا تو کیا ہوتا؟

مجھے کچھ موت کی پروا نہیں اے داور محشر 

یتیموں کا بھی کوئی آسرا ہوتا تو کیا ہوتا 

ابھی مہندی لگائی تھی ابھی خوں کر دیا میرا 

اگر رنگِ حنا اصغر چڑھا ہوتا تو کیا ہوتا 


اصغر نظامی

No comments:

Post a Comment