دیکھو ہماری آنکھ میں ویسی چمک نہیں
دیکھو ہمارا رنگ بھی ویسا نہیں رہا
آنکھوں سے خوش گمانی کی پٹی اتر چکی
اب صاف دیکھتا ہوں میں اندھا نہیں رہا
اپنے بہت سے یار تھے جانے کہاں گئے
جب سے ہمارے ہاتھ میں پیسہ نہیں رہا
ہم نے بھی کب کی چھوڑ دی منزل کی جُستجو
یوں بھی ہمارے پاؤں میں رستہ نہیں رہا
پہلے تو میری آنکھ سے اوجھل ہوا وہ شخص
پھر اس کے بعد ذہن میں چہرہ نہیں رہا
فیصل محمود
No comments:
Post a Comment