Thursday, 4 August 2022

دیکھو ہماری آنکھ میں ویسی چمک نہیں

 دیکھو ہماری آنکھ میں ویسی چمک نہیں

دیکھو ہمارا رنگ بھی ویسا نہیں رہا

آنکھوں سے خوش گمانی کی پٹی اتر چکی

اب صاف دیکھتا ہوں میں اندھا نہیں رہا

اپنے بہت سے یار تھے جانے کہاں گئے

جب سے ہمارے ہاتھ میں پیسہ نہیں رہا

ہم نے بھی کب کی چھوڑ دی منزل کی جُستجو

یوں بھی ہمارے پاؤں میں رستہ نہیں رہا

پہلے تو میری آنکھ سے اوجھل ہوا وہ شخص

پھر اس کے بعد ذہن میں چہرہ نہیں رہا


فیصل محمود

No comments:

Post a Comment