وہی تُو غضب سے جیتا، وہی میں ادب سے ہارا
ابھی تُو نے روک رکھا ہے کہیں کوئی اک اشارا
تجھے بھا گئی ہیں کیونکر میری بے نماز نظریں
کہ امامِ شہر نے تو انہیں کُفر گر پکارا
مِرے جرم کے طریقوں نے غضب کیا ہے ورنہ
مِری ہر خطا مسلّم،۔ مجھے ہر سزا گوارا
مجھے کھوجنے کی جدت تجھے پردگی میں لذت
مجھے سوزِ غم نے لوٹا تجھے کیف و کم نے مارا
ہے کوئی ازل کا شاہد جو یہ راز فاش کردے
مجھے کس کڑے کلیجے نے زمین پر اتارا
مِری راہ پر نہ آئیں مِری چاہ پر نہ جائیں
کہ ہیں قید وقت و منزل میں ابھی نہو ستارا
تِری شعبدہ پسندی سے نباہ رہا ہوں اب تک
کبھی کھو گیا سمندر کبھی کھو گیا کنارا
فکر تونسوی
No comments:
Post a Comment