نہ طرزِ دوست نہ رنگِ عدو سے ملتا ہے
وہ بانکپن جو تِری گفتگو سے ملتا ہے
میں کیا بتاؤں یہ کس خوبرو سے ملتا ہے
جب آفتاب لبِ آبجو سے ملتا ہے
ہمارے زخم ہرے ہوں تو مسکراتے ہیں
ہمیں سکون بھلا کب رفُو سے ملتا ہے
ہماری طرح یہ ہے کشتۂ ستم کہ نوید
حنا کا رنگ ہمارے لہو سے ملتا ہے
علی الدین نوید
No comments:
Post a Comment