تمام عمر رلائے گا ہجر یار کا دُکھ
کہ میری آنکھ میں رکھا ہے انتظار کا دکھ
ملن کی آنچ سے جلتا ہے تار تار وجود
فراقِ یار سے بڑھ کر ہے وصلِ یار کا دکھ
خزاں رسیدگی پتوں کو کھا گئی ہوتی
شجر کی شاخِ بریدہ کو ہے بہار کا دکھ
وہ میری چاہتیں پا کر یہ کہتا رہا
نہیں مٹے گا میرے دل سے پہلے پیار کا دکھ
قدیم گھر کے کسی خستہ حال طاقچے میں
ابھی بھی رات کو جلتا ہے انتظار کا دکھ
حصارِ ذات سے آگے شعورِ ذات کی راہ
وجودیت سے ہے آگے وجودِ یار کا دکھ
فضہ بتول
No comments:
Post a Comment