کچھ اس طرح سے وہ آنکھیں دکھائی دیتی ہیں
کہ جیسے دور سے جھیلیں دکھائی دیتی ہیں
کسی کا قرب کسی کے لیے قیامت ہے
پھر اس کو ہر جگہ بانہیں دکھائی دیتی ہیں
میں ایک خوف سے گھبرا کے سو نہیں پاتا
کہ مجھ کو خواب میں قبریں دکھائی دیتی ہیں
مِرا سکوت بہت شور کرتا ہے مجھ میں
مِری خموشیاں، دیکھیں، دکھائی دیتی ہیں
حسنین آفندی
No comments:
Post a Comment