Tuesday, 20 July 2021

کچھ اس طرح سے وہ آنکھیں دکھائی دیتی ہیں

 کچھ اس طرح سے وہ آنکھیں دکھائی دیتی ہیں 

کہ جیسے دور سے جھیلیں دکھائی دیتی ہیں 

کسی کا قرب کسی کے لیے قیامت ہے 

پھر اس کو ہر جگہ بانہیں دکھائی دیتی ہیں

میں ایک خوف سے گھبرا کے سو نہیں پاتا 

کہ مجھ کو خواب میں قبریں دکھائی دیتی ہیں

مِرا سکوت بہت شور کرتا ہے مجھ میں 

مِری خموشیاں، دیکھیں، دکھائی دیتی ہیں


حسنین آفندی

No comments:

Post a Comment