رمیدگی کے تنازعے سب سمٹ رہے تھے
شریر جو تھے خدا کی جانب پلٹ رہے تھے
سہانے موسم میں، ایک کمرے کا حال یوں تھا
شدید گریہ تھا، غم دریچے سے چھٹ رہے تھے
بچھڑ گیا تھا وہ جو سمجھتا تھا ہم کو، سو ہم
کثیر وحشت کی زد میں خود سے لپٹ رہے تھے
جو قہقہے تھے، ہماری آہیں دبی تھیں ان میں
سو رفتہ رفتہ ہم اپنے اندر سے کٹ رہے تھے
وہ بال کھولے جو چاند تکنے کو چھت پہ آئی
ستارے خود ہی تمام منظر سے ہٹ رہے تھے
ہمارا ہونا ہر ایک شے کو کھٹک رہا تھا
ہمارے پنکھے ہماری گردن جھپٹ رہے تھے
حسنین آفندی
No comments:
Post a Comment