Friday, 13 November 2020

شدید گریہ تھا غم دریچے سے چھٹ رہے تھے

 رمیدگی کے تنازعے سب سمٹ رہے تھے

شریر جو تھے خدا کی جانب پلٹ رہے تھے

سہانے موسم میں، ایک کمرے کا حال یوں تھا

شدید گریہ تھا، غم دریچے سے چھٹ رہے تھے

بچھڑ گیا تھا وہ جو سمجھتا تھا ہم کو، سو ہم

کثیر وحشت کی زد میں خود سے لپٹ رہے تھے

جو قہقہے تھے، ہماری آہیں دبی تھیں ان میں

سو رفتہ رفتہ ہم اپنے اندر سے کٹ رہے تھے

وہ بال کھولے جو چاند تکنے کو چھت پہ آئی

ستارے خود ہی تمام منظر سے ہٹ رہے تھے

ہمارا ہونا ہر ایک شے کو کھٹک رہا تھا

ہمارے پنکھے ہماری گردن جھپٹ رہے تھے


حسنین آفندی

No comments:

Post a Comment