خواہشِ بد تِری صحبت سے نکل آیا ہوں
اس کنویں سے بھی سہولت سے نکل آیا ہوں
وہ کسی اور شکنجے کو "ہنر" مانتا تھا
میں کسی اور مہارت سے نکل آیا ہوں
کیا میں پتھر کوئی ماروں تو خبر پھیلے گی
میں تو خود بھی نہیں سمجھا ہوں کہ دیواروں سے
کس دریچے کی رعایت سے نکل آیا ہوں
اس نے کوشش تو بہت کی تھی کہ بدنامی ہو
لیجیۓ اور بھی عزت سے نکل آیا ہوں
دیکھتا رہ گیا منصف بھی مجھے حیرت سے
سرخرو ہو کے عدالت سے نکل آیا ہوں
اب کوئی خوئے صنوبر نہیں مجھ میں عاطف
ہر طرح کے قد و قامت سے نکل آیا ہوں
عاطف کمال رانا
No comments:
Post a Comment