Saturday, 8 August 2020

ایسا تو نہیں ہے کہ دھنک دیکھ رہا ہوں

ایسا تو نہیں ہے کہ دھنک دیکھ رہا ہوں
دنیا میں تباہی کی جھلک دیکھ رہا ہوں
منہ چومنے اترا ہے کوئی چاند فلک سے
دیوار کی آنکھوں میں چمک دیکھ رہا ہوں
یونہی تو نہیں ہے یہ بغل گیرئ آتش
اس میں لبِ لعلیں کی بھڑک دیکھ رہا ہوں
لگتا ہے ابھی "آئینہ" محفوظ رہے گا
پتھر کے رویۓ میں لچک دیکھ رہا ہوں
آندھی کی نظر میں ہے مِرا رزقِ مشقت
گردش میں پڑا نان و نمک دیکھ رہا ہوں
کافی ہیں مجھے نقشِ کفِ پائے بزرگاں
مٹی میں بھی تزئینِ فلک دیکھ رہا ہوں

عاطف کمال رانا

No comments:

Post a Comment