ایسا تو نہیں ہے کہ دھنک دیکھ رہا ہوں
دنیا میں تباہی کی جھلک دیکھ رہا ہوں
منہ چومنے اترا ہے کوئی چاند فلک سے
دیوار کی آنکھوں میں چمک دیکھ رہا ہوں
یونہی تو نہیں ہے یہ بغل گیرئ آتش
لگتا ہے ابھی "آئینہ" محفوظ رہے گا
پتھر کے رویۓ میں لچک دیکھ رہا ہوں
آندھی کی نظر میں ہے مِرا رزقِ مشقت
گردش میں پڑا نان و نمک دیکھ رہا ہوں
کافی ہیں مجھے نقشِ کفِ پائے بزرگاں
مٹی میں بھی تزئینِ فلک دیکھ رہا ہوں
عاطف کمال رانا
No comments:
Post a Comment