جب تلک کوئی ٹھکانہ نہیں ہونے والا
شہرِ دل سے میں روانہ نہیں ہونے والا
میں نے اک آنکھ لگا رکھی ہے ہر تیر کے ساتھ
اب خطا میرا نشانہ نہیں ہونے والا
آخری سانس کے کٹتے ہی ملیں گے تجھ سے
آسمانی قد و قامت میں بھی ڈھل کر شاید
تو مِرے شانہ بشانہ نہیں ہونے والا
پاؤں کے نیچے کوئی سانپ تو ہو سکتا ہے
پاؤں کے نیچے خزانہ نہیں ہونے والا
میں تو پتھر ہوں مجھے رہنا ہے پتھر اے دوست
میں تِرا آئینہ خانہ نہیں ہونے والا
ہاتھ کاٹے یا مِری کاٹ دے شہ رگ عاطف
آنکھ سے اشک روانہ نہیں ہونے والا
عاطف کمال رانا
No comments:
Post a Comment