Saturday, 8 August 2020

یہ کیا کہ تیرے ہوتے بھی کوئی اداس ہو

یہ کیا کہ تیرے ہوتے بھی کوئی اداس ہو 
جیسے کوئی رعایتی نمبر سے پاس ہو 
یہ کیا کہ حرف حرف سے ٹپکے ہوس کی رال 
یہ کیا کہ شعر شعر میں جسموں کی باس ہو 
یہ کیا کہ عشق ہو تو پھر اس میں نہ ہو مٹھاس 
پھل ہو تو پھر ضروری ہے اس میں مٹھاس ہو 
یہ کیا کہ مول بھی لگے، انمول بھی کہو
قیمت اگرچہ لاکھ ہو، یا سو پچاس ہو 
یہ کیا کہ غازی اور شہید ایک نام لیں 
یہ کیا خدا کے نام پہ خوف و ہراس ہو 
یہ کیا کسی کے واسطے میلا لگا رہے 
یہ کیا اسی کے نام پہ جینے کی آس ہو 
سوچو وجودِ 'لا' سے وہ بھٹکے یہاں وہاں 
سوچو اگر 'خدا' کو بھی 'تنہائی' راس ہو

محسن احمد

No comments:

Post a Comment