یہ کیا کہ تیرے ہوتے بھی کوئی اداس ہو
جیسے کوئی رعایتی نمبر سے پاس ہو
یہ کیا کہ حرف حرف سے ٹپکے ہوس کی رال
یہ کیا کہ شعر شعر میں جسموں کی باس ہو
یہ کیا کہ عشق ہو تو پھر اس میں نہ ہو مٹھاس
یہ کیا کہ مول بھی لگے، انمول بھی کہو
قیمت اگرچہ لاکھ ہو، یا سو پچاس ہو
یہ کیا کہ غازی اور شہید ایک نام لیں
یہ کیا خدا کے نام پہ خوف و ہراس ہو
یہ کیا کسی کے واسطے میلا لگا رہے
یہ کیا اسی کے نام پہ جینے کی آس ہو
سوچو وجودِ 'لا' سے وہ بھٹکے یہاں وہاں
سوچو اگر 'خدا' کو بھی 'تنہائی' راس ہو
محسن احمد
No comments:
Post a Comment