Tuesday, 1 November 2022

وہ جو اک شخص وہاں ہے وہ یہاں کیسے ہو

 وہ جو اک شخص وہاں ہے وہ یہاں کیسے ہو

ہجر پر وصل کی حالت کا گماں کیسے ہو

بے نمو خواب میں پیوست جڑیں ہیں میری

ایک گملے میں کوئی نخل جواں کیسے ہو

تم تو الفاظ کے نشتر سے بھی مر جاتے تھے

اب جو حالات ہیں اے اہلِ زباں کیسے ہو

آنکھ کے پہلے کنارے پہ کھڑا آخری اشک

رنج کے رحم و کرم پر ہے رواں کیسے ہو

بھاؤ تاؤ میں کمی بیشی نہیں ہو سکتی

ہاں مگر تجھ سے خریدار کو ناں کیسے ہو

ملتے رہتے ہیں مجھے آج بھی غالب کے خطوط

وہی انداز تخاطب کہ؛ میاں کیسے ہو


افضل خان

No comments:

Post a Comment