Monday, 11 January 2021

برسوں کے حالات بھی کل کی بات لگیں

 برسوں کے حالات بھی کل کی بات لگیں

دل کے اندر صدیاں بھی لمحات لگیں

جو کچھ ہے احساس کا جادو ہے ورنہ

آنسو بھی بے بادل کی برسات لگیں

کانٹوں کو مت کوسیے شاید کانٹے ہی

منزل کی محرومی پر سوغات لگیں

جن آنکھوں نے پیار کی مے چھلکائی ہو

آنسو ایسی آنکھوں میں، خدشات لگیں

جس کو ہم نے جانِ غزل ٹھہرایا ہے

اس کی باتیں بھی ہم کو ابیات لگیں

اس کی گلی میں جاتے ہوئے جی ڈرتا ہے

کیسے کیسے لوگ نہ جانیں ساتھ لگیں

کم تو نہیں جاوید کسی کے مِلنے پر

بدلے بدلے دنیا کے حالات لگیں


عبداللہ جاوید

No comments:

Post a Comment