برسوں کے حالات بھی کل کی بات لگیں
دل کے اندر صدیاں بھی لمحات لگیں
جو کچھ ہے احساس کا جادو ہے ورنہ
آنسو بھی بے بادل کی برسات لگیں
کانٹوں کو مت کوسیے شاید کانٹے ہی
منزل کی محرومی پر سوغات لگیں
جن آنکھوں نے پیار کی مے چھلکائی ہو
آنسو ایسی آنکھوں میں، خدشات لگیں
جس کو ہم نے جانِ غزل ٹھہرایا ہے
اس کی باتیں بھی ہم کو ابیات لگیں
اس کی گلی میں جاتے ہوئے جی ڈرتا ہے
کیسے کیسے لوگ نہ جانیں ساتھ لگیں
کم تو نہیں جاوید کسی کے مِلنے پر
بدلے بدلے دنیا کے حالات لگیں
عبداللہ جاوید
No comments:
Post a Comment