دل کے ویرانے کو آباد کریں
آؤ اک دوسرے کو یاد کریں
پھر سے ملنے ملانے کا
ہم کوئی راستہ ایجاد کریں
پیار کو رنجشوں کی کڑیوں سے
مل کے اے دوست آزاد کریں
تنہائی کے صحرا میں جھلس کر
کیوں اپنے آپ کو برباد کریں
ایک ہو جائیں ہم تو رب سے
کوئی شکوہ نہ اس کے بعد کریں
جہاں ملتا ہے منگتوں کو
چلو اس در پہ فریاد کریں
تاشفین فاروقی
No comments:
Post a Comment