Monday, 11 January 2021

دل کے ویرانے کو آباد کریں

دل کے ویرانے کو آباد کریں

آؤ اک دوسرے کو یاد کریں

پھر سے ملنے ملانے کا

ہم کوئی راستہ ایجاد کریں

پیار کو رنجشوں کی کڑیوں سے

مل کے اے دوست آزاد کریں

تنہائی کے صحرا میں جھلس کر

کیوں اپنے آپ کو برباد کریں

ایک ہو جائیں ہم تو رب سے

کوئی شکوہ نہ اس کے بعد کریں

جہاں ملتا ہے منگتوں کو

چلو اس در پہ فریاد کریں


تاشفین فاروقی

No comments:

Post a Comment