فلک پر جب ستارے ٹوٹتے ہیں
زمیں پر دل ہمارے ٹوٹتے ہیں
یہ کیسے فیصلے ہوتے ہیں اوپر
جو نیچے عہد سارے ٹوٹتے ہیں
سُبک موجوں سے بن جاتے ہیں دھارے
سُبک موجوں سے دھارے ٹوٹتے ہیں
کوئی طوفان دستک دے رہا ہے
لبِ دریا کنارے ٹوٹتے ہیں
جُدا یہ بات کچھ برسے نہ برسے
بظاہر ابر پارے ٹوٹتے ہیں
بجائے آب قحطِ آ ب برسا
یونہی اکثر سہارے ٹوٹتے ہیں
خوشی کے موڑ پر ہی کیوں یہ آخر
ہمارے خواب سارے ٹوٹتے ہیں
ہمیں پہچان ہوتی ہے خدا کی
ارادے جب ہمارے ٹوٹتے ہیں
عبداللہ جاوید
No comments:
Post a Comment