زندگی کی سگریٹ
تمہارے ساتھ پینے کی خاطر
میں نے اپنے سوچنے کی صلاحیت
تمہارے نام کر دی تھی
اور وہ تمام مکھوٹے
تمہارے کمرے میں سجا دئیے تھے
جنہیں تم نے عمر بھر
شکار کیا تھا
میں اپنی ساری خوشبوئیں
خرچ کر کے
تمہارا پورا درد خرید رہی تھی
لیکن تم نے آنکھوں پر ہی نہیں
دماغ پر بھی پٹی باندھ رکھی تھی
سڑک حادثے کے بعد
میرا پلستر چڑھتے سمے
جو تم نے ایک لمحے کو
اپنی آنکھوں کی پٹی کھول دی تھی
تمہارا سر جھک گیا تھا
شبنم عشائی
No comments:
Post a Comment