Friday, 15 January 2021

ننگے پاؤں کی آہٹ تھی یا نرم ہوا کا جھونکا تھا

 ننگے پاؤں کی آہٹ تھی یا نرم ہوا کا جھونکا تھا

پچھلے پہر کے سناٹے میں دل دیوانہ چونکا تھا

پانچوں حواس کی بزم سجا کر اُس کی یاد میں بیٹھے تھے

ہم سے پوچھو شبِ جدائی کب کب پتا کھڑکا تھا

اور بھی تھے اُس کی محفل میں باتیں سب سے ہوتی تھیں

سب کی آنکھ بچا کر اُس نے ہم کو تنہا دیکھا تھا

چاہ کی بازی ہار کے ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا

اُس کے ملن کی بات نہ پو چھو سپنا سا اک دیکھا تھا

چاند گگن میں ایک ہے لیکن عکس ہزاروں پڑتے ہیں

جس کی لگن میں ڈوب گئے ہم، دریا میں اک سایا تھا

دل کے دھڑکنے پر مت جاؤ، دل تو یوں بھی دھڑکتا ہے

سوچو باتوں ہی باتوں میں نام کسی کا آیا تھا

کیسا شکوہ، کیسی شکایت، دل میں یہی سوچو جاوید

تم ہی گئے تھے اُس کی گلی میں، وہ کب تم تک آیا تھا

 

عبداللہ جاوید

No comments:

Post a Comment