ننگے پاؤں کی آہٹ تھی یا نرم ہوا کا جھونکا تھا
پچھلے پہر کے سناٹے میں دل دیوانہ چونکا تھا
پانچوں حواس کی بزم سجا کر اُس کی یاد میں بیٹھے تھے
ہم سے پوچھو شبِ جدائی کب کب پتا کھڑکا تھا
اور بھی تھے اُس کی محفل میں باتیں سب سے ہوتی تھیں
سب کی آنکھ بچا کر اُس نے ہم کو تنہا دیکھا تھا
چاہ کی بازی ہار کے ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا
اُس کے ملن کی بات نہ پو چھو سپنا سا اک دیکھا تھا
چاند گگن میں ایک ہے لیکن عکس ہزاروں پڑتے ہیں
جس کی لگن میں ڈوب گئے ہم، دریا میں اک سایا تھا
دل کے دھڑکنے پر مت جاؤ، دل تو یوں بھی دھڑکتا ہے
سوچو باتوں ہی باتوں میں نام کسی کا آیا تھا
کیسا شکوہ، کیسی شکایت، دل میں یہی سوچو جاوید
تم ہی گئے تھے اُس کی گلی میں، وہ کب تم تک آیا تھا
عبداللہ جاوید
No comments:
Post a Comment