سمندر کے کنارے رقص میں ہوں
ہوا میں بے سہارے رقص میں ہوں
ابھی ہے رات کا اک پہر باقی
میں لے کر چاند تارے رقص میں ہوں
مِرے اندر بھی کوئی ناچتا ہے
میں اس کے ساتھ پیارے، رقص میں ہوں
اُچھالے سنگ کوئی میری جانب
یا کوئی پھول مارے، رقص میں ہوں
کبھی نیچے ہیں میرے ابر پارے
کبھی ہیں تیز دھارے، رقص میں ہوں
عبث ہے اب مجھے آواز دینا
کوئی کتنا پکارے، رقص میں ہوں
فلک پر ناچ میرا دیکھتے ہیں
فرشتے، چاند، تارے، رقص میں ہوں
ہر اک ہونے کی حد کو پار کر کے
نہ ہونے کے کنارے، رقص میں ہوں
ستارے ہیں مِرے قدموں کے نیچے
کبھی جلتے شرارے، رقص میں ہوں
قدم روکوں تو رُک جائے یہ دنیا
یہی اچھا ہے پیارے، رقص میں ہوں
میں اپنی جان کی بازی لگا کر
خود ا پنی جان ہارے، رقص میں ہوں
بظاہر نیند میں ہوں غفلتوں کی
کہیں پاؤں پسارے، رقص میں ہوں
سکوں دشمن جہاں میں زیست اپنی
کوئی کیسے گزارے، رقص میں ہوں
ہوئی ہے تیز تر دنیا کی گردش
اسی گردش کے مارے، رقص میں ہوں
قدم روکوں تو کیسے؟ بھاگتے ہیں
نظاروں پر نظارے، رقص میں ہوں
بدلتے ہیں بہت ہی تیز چہرے
تمہارے اور ہمارے، رقص میں ہوں
زمانے نے بگاڑا مجھ کو لیکن
زمانے کو سنوارے، رقص میں ہوں
اٹا ہے گرد میں خود اپنا چہرہ
ہر اک چہرہ نکھارے، رقص میں ہوں
کبھی لگتا ہے شاید ساتھ میرے
ہیں رقصاں لوگ سارے، رقص میں ہوں
کبھی لگتا ہے میرے ناچنے میں
کسی کے ہیں اشارے، رقص میں ہوں
فنا کی تیز موجوں کے بھنو ر میں
انا کا سر ابھارے، رقص میں ہوں
نچا تا ہے جو سب کو زندگی بھر
اسی پر خود کو وارے، رقص میں ہوں
کسی مندر کسی مسجد کی چھت کے
لرزتے ہیں منارے، رقص میں ہوں
نہ جانے بج رہے ہیں کس جہاں میں
نفیری اور نقارے، رقص میں ہوں
مِری چاپوں سے چھم چھم پھوٹتے ہیں
جنوں کے استعارے، رقص میں ہوں
مِری ہر جنبشِ اعضأ میں جاوید
ابد کے ہیں اشارے، رقص میں ہوں
عبداللہ جاوید
No comments:
Post a Comment