Tuesday, 12 January 2021

سنو ستمگر فقیر ہوں میں نہ یوں ستاؤ دعا کروں گا

 سنو ستم گر فقیر ہوں میں نہ یوں ستاؤ دعا کروں گا

ستم کرو گے تو کیا ملے گا؟ گلے لگاؤ دعا کروں گا

فلک کو دیکھا تو سب دھواں ہے، زمیں کو دیکھا تو خاکِ پائی

یہ ابنِِ آدم کا دورِ فانی ہے، مسکراؤ دعا کروں گا

سبھی طبیبوں کے پاس گویا اب ان مسائل کا حل نہیں ہے

یہ سب مسائل نہیں رہیں گے، قریب آؤ، دعا کروں گا

ہے جس نبیؐ کا مقام اعلیٰ، ہے جس محمدؐ کا نام اعلیٰ

اسی محمدؐ کی آل ہوں میں، مجھے بلاؤ، دعا کروں گا

تمہاری فطرت ہے رنج دینا، تمہیں محبت کا کیا پتا ہو

اگر چلانے ہیں تیر ہی تو اِدھر چلاؤ، دعا کروں گا

یہ میری آنکھیں ترس گئیں ہیں کہ ایک مدت سے دور ہے وہ

کوئی تو تصویر اس پری کی مجھے دکھاؤ، دعا کروں گا

کسی کی خاطر مصیبتوں کو ہے کون سہتا؟ مگر اے سید

تم اپنے ہاتھوں سے زہر بھی گر مجھے کھلاؤ، دعا کروں گا


داؤد سید

No comments:

Post a Comment