Tuesday, 12 January 2021

سمجھا ہے جیسا سب نے ویسا نہیں میں صاحب

 سمجھا ہے جیسا سب نے، ویسا نہیں میں صاحب

کہتے ہیں لوگ یونہی، اچھا نہیں میں صاحب

میرا مزاج ہے یہ، سہتا ہوں درد ہنس کر

شکوے، گِلے زباں پر رکھتا نہیں میں صاحب

یہ حوصلہ ہے میرا، نام اس کو جو بھی دیں آپ

ٹوٹا ہوا ہوں پورا، بکھرا نہیں میں صاحب

ان سے جدائی کا جب، دیکھا تھا خواب مَیں نے

سو اس کے بعد پھر تو، سویا نہیں میں صاحب

بے خوابی، نیم شب ہے، سرد آہیں سسکیاں ہیں

آنکھیں ہیں سُرخ یونہی، رویا نہیں میں صاحب

دل کے قریب ہے جو، آنکھوں سے دور ہے وہ

اس کے حصار سے ہی نکلا نہیں میں صاحب

مارا ہے گردشوں نے، ہر آئے دن ہی کاشف

گِر کر سنبھل گیا ہوں ہارا نہیں میں صاحب


کاشف لاشاری

No comments:

Post a Comment