Friday, 14 May 2021

جو گزرتا ہے گزر جائے جی

 جو گزرتا ہے گزر جائے جی

آج وہ کر لیں کہ بھر جائے جی

آج کی شب یہیں جینا مرنا

جس کو جانا ہو وہ گھر جائے جی

اس گلی سے نہیں جانا ہم کو

آن رخصت ہو کہ سر جائے جی

وقت نے کر دیا جو کرنا تھا

کوئی مرتا ہے تو مر جائے جی

شاخِ گُل، موجِ ہوا رقصاں ہیں

پھُول بکھرے تو بکھر جائے جی

منظروں کے بھی پرے ہیں منظر

آنکھ جو ہو تو نظر جائے جی

سمت کیا راہ کیا منزل کیسی

چل پڑو آپ جدھر جائے جی

اپنی ہی سوچ پہ چلنا چاہے

اپنی ہی سوچ سے ڈر جائے جی

یہ عجب بات ہے اکثر جاوید

جس سے روکیں وہی کر جائے جی


عبداللہ جاوید

No comments:

Post a Comment