یہ ساری باتیں سچ ہی سہی
یہ سارے گمان درست سہی
پر یہ تو کہو
قدموں تلے روندے پتوں کی آواز سنی ہے تم نے کبھی؟
مُرجھائے ہوئے پھولوں سے کبھی بیتی ہوئی رُت کی بات ہوئی؟
کبھی خوفزدہ نخچیروں کی آنکھوں میں جھانک کے دیکھا ہے؟
کبھی دُکھتے دلوں کی اس دھڑکن اس دہشت میں بھی شریک ہوئے؟
جو ہوتے ہوئے بھی نہ ہونے کے احساس سے پیدا ہوتی ہے
پھٹی پرانی شکلوں والے
یہ اپاہج یہ معذور ضعیف
یہ ٹوٹے پھوٹے کھلونے بھی
اسی چاک سے آئے ہیں کہ نہیں
کل جن کی حیات تھی برق آسا
پیوند خس و خاشاک ہوئے
جنہیں دیکھ کے آنکھیں روشن تھیں
پنہاں پسِ پردۂ خاک ہوئے
وہ نقش گر کامل ہے تو پھر
جو نقش جمیل بناتا ہے
جو درد دلوں میں جگاتا ہے
اسے غارت کیوں کر دیتا ہے
فنکارِ ازل کو کیا اپنے کسی نقش پہ اطمینان نہیں؟
ضیا جالندھری
No comments:
Post a Comment