Friday, 14 May 2021

یہ ساری باتیں سچ ہی سہی یہ سارے گمان درست سہی

 یہ ساری باتیں سچ ہی سہی

یہ سارے گمان درست سہی

پر یہ تو کہو

قدموں تلے روندے پتوں کی آواز سنی ہے تم نے کبھی؟

مُرجھائے ہوئے پھولوں سے کبھی بیتی ہوئی رُت کی بات ہوئی؟

کبھی خوفزدہ نخچیروں کی آنکھوں میں جھانک کے دیکھا ہے؟

کبھی دُکھتے دلوں کی اس دھڑکن اس دہشت میں بھی شریک ہوئے؟

جو ہوتے ہوئے بھی نہ ہونے کے احساس سے پیدا ہوتی ہے

پھٹی پرانی شکلوں والے

یہ اپاہج یہ معذور ضعیف

یہ ٹوٹے پھوٹے کھلونے بھی

اسی چاک سے آئے ہیں کہ نہیں

کل جن کی حیات تھی برق آسا

پیوند خس و خاشاک ہوئے

جنہیں دیکھ کے آنکھیں روشن تھیں

پنہاں پسِ پردۂ خاک ہوئے

وہ نقش گر کامل ہے تو پھر

جو نقش جمیل بناتا ہے

جو درد دلوں میں جگاتا ہے

اسے غارت کیوں کر دیتا ہے

فنکارِ ازل کو کیا اپنے کسی نقش پہ اطمینان نہیں؟


ضیا جالندھری

No comments:

Post a Comment