خالی پنجرہ دھرا رہ گیا
رات موجِ ہوا
ایک چھوٹے سے کمرے کے
چھوٹے دریچے میں
آ کر کھڑی ہو گئی
بولی؛ اے بے خبر
خوابِ راحت میں تم ہو یہاں
اور وہاں
اجنبی ملک کے
اجنبی باغ کی
اجنبی بینچ پر
بیٹھے بیٹھے
کسی سمت کو اُڑ گئی
ایک مینا
تمہاری جو دلدار تھی
بنچ پر
خالی پنجرہ
دھرا رہ گیا
عبداللہ جاوید
No comments:
Post a Comment