Sunday, 19 December 2021

وہ اگر ہم خیال ہو جائیں

 وہ اگر ہم خیال ہو جائیں

ختم سارے ملال ہو جائیں

وہ ہوں آمادۂ جواب اگر

ہم سراپا سوال ہو جائیں

شہر والوں کا ہے خدا حافظ

چور جب کوتوال ہو جائیں

ہے جدائی خدا کی اک نعمت

قربتیں جب وبال ہو جائیں

ہاتھ سے آس کا عصا نہ گرے

حوصلے جب نڈھال ہو جائیں

ہو اگر آپ کی نگاہِ کرم

بے ہُنر با کمال ہو جائیں

آؤ نکلیں انا کے خول سے اب

رابطے پھر بحال ہو جائیں

حوصلہ ہار دوں جلال اگر

کام سارے محال ہو جائیں


قاسم جلال

No comments:

Post a Comment