Sunday, 19 December 2021

تری خاطر ہوئے پامال کو اب کون دیکھے گا

 کون دیکھے گا (پارٹ 2)


تِری خاطر ہوئے پامال کو اب کون دیکھے گا؟

دُکھوں سے زرد پڑتے گال کو اب کون دیکھے گا

تمہی تو دیکھتے تھے سب، تمہی مٹی میں جا سوئے

مِرے اُجڑے ہوئے اس حال کو اب کون دیکھے گا

مِرے ہمدم، مِرے ساتھی، مِرے دلبر، تمہارے بعد

مِری قسمت میں آئے کال کو اب کون دیکھے گا

جو میرے زخم سِیتا تھا، وہی کل کھو گیا مجھ سے

مِری اُدھڑی ہوئی اس کھال کو اب کون دیکھے گا

اسے کیسے بتاؤں، مجھ سے اب یہ پوچھتے ہیں لوگ

تِرے ماتھے پہ بِکھرے بال کو اب کون دیکھے گا


سدرہ غلام رسول

No comments:

Post a Comment