Tuesday, 12 October 2021

خیال یار سے دامن چھڑا کے آئی ہوں

 خیالِ یار سے دامن چھڑا کے آئی ہوں

میں اپنے کاندھے پہ آنسو بہا کے آئی ہوں

بہت سا بوجھ تھا دل پر سو دشت الفت میں

تمہارے پیار کا قرضہ چُکا کے آئی ہوں

چراغِ شب تھا مجھے دیکھ کر تمہارا وجود

تمہاری آنکھوں کے دیپک بُجھا کے آئی ہوں

پرانے پیڑ مِرے ساتھ ساتھ روتے رہے

جو نام مِل کے لِکھے تھے مِٹا کےآئی ہوں

چراغ ہے کہ مِرے دل میں یاد کا سورج

جسے دریچے میں شب کے سجا کے آئی ہوں

ہزار کلیاں گلابوں کی مسترد کر کے

میں اپنے جُوڑے میں پتّے لگا کے آئی ہوں

مجھے تلاش کرو گردِ عاشقی میں جہاں

میں اپنے پیار کا صحرا چھپا کے آئی ہوں

اُدھر نہ جانا کبھی لڑکیوں سے کہتی ہوں

میں راہِ عشق میں تن من گنوا کے آئی ہوں


شازیہ مفتی

No comments:

Post a Comment