Tuesday, 12 October 2021

شیشے سے زیادہ نازک تھا یہ شیشۂ دل جو ٹوٹ گیا

 شیشے سے زیادہ نازک تھا یہ شیشۂ دل جو ٹُوٹ گیا

مت پوچھو کہ مجھ پر کیا گزری جب ہاتھ سے ساغر چھوٹ گیا

تاریکئ محفل کا شکوہ تم کرتے ہو اے دیوانو! کیوں

خود شمع بجھا دی ہے تم نے خود بخت تمہارا پھوٹ گیا

ساقی کی نظر اٹھتی ہی نہیں کیوں بادہ و ساغر کی جانب

سرمایۂ مے خانہ آ کر کیا کوئی لُٹیرا لوٹ گیا

محرومیٔ قسمت کا عالم کیا پوچھ رہے ہو تم مجھ سے

منزل تو ابھی ہے دور بہت اور اک اک ساتھی چھوٹ گیا

اٹھتا ہے دانش دل سے دھواں آنکھوں سے ٹپکتے ہیں آنسو

کیا آتش غم دینے لگی لو کیا دل کا پھپھولا پھوٹ گیا


دانش فراہی

No comments:

Post a Comment