Wednesday, 3 March 2021

صورت حال سے گھبرائی ہوئی لڑکی ہوں

 صورتِ حال سے گھبرائی ہوئی لڑکی ہوں

میں تِرے عشق سے شرمائی ہوئی لڑکی ہوں

نیند نے بھی مجھے ملبوس سمجھ رکھا ہے

سو کسی خواب کو پہنائی ہوئی لڑکی ہوں

ہجر نے چھین لی چہرے سے مِرے رعنائی

درد کی شاخ پہ کمہلائی ہوئی لڑکی ہوں

میرا آنسو سے تقابل کیا جائے فی الحال

میں کسی آنکھ میں بھر آئی ہوئی لڑکی ہوں

میرا زِندان ہے معمول کے قیدی سے الگ

اپنے ہی جسم میں ٹھہرائی ہوئی لڑکی ہوں

میں نے دانستہ محبت کی پذیرائی کی

تم سمجھتے ہو کہ بہکائی ہوئی لڑکی ہوں


گل حوریہ

No comments:

Post a Comment