کون ہے جس کا سارا دُکھ ہے
دکھ بھی، جس کا چارا دکھ ہے
میٹھی باتیں کرتا ہے وہ
اور آنکھوں میں کھارا دکھ ہے
میں عورت ہوں مجھ سے ملیے
میرا مٹی گارا دکھ ہے
عشق میں دکھ ہی چارا سمجھا
اور وجہ بے چارا دکھ ہے
دیکھ خدا اب تیرے ہوتے
میرا صرف سہارا دکھ ہے
ایک کنارہ تم ہو یعنی
میرا ایک کنارا دکھ ہے
ہنستے رہتے ہیں ہم دونوں
میں ہوں، دکھ کا مارا دکھ ہے
صباحت عروج
No comments:
Post a Comment