Wednesday, 3 March 2021

ہوا کے ہونٹ کھلیں ساعت کلام تو آئے

 ہوا کے ہونٹ کھلیں ساعت کلام تو آئے

یہ ریت جیسا بدن آندھیوں کے کام تو آئے

منافقت کی سبھی تہمتیں مجھے دے دے

مِرے طفیل رفیقوں میں تیرا نام تو آئے

اسے اداس نہ کر دے یہ میری سست روی

میں اب کے سُست چلوں وہ سُبک خرام تو آئے

غمِ حیات، غمِ روزگار، بے وطنی

سکون سے جو ڈھلے کاش ایسی شام تو آئے


غالب ایاز

No comments:

Post a Comment