بنا سوچے بنا سمجھے اذیت میں بناتی ہوں
جہاں درکار نہ بھی ہو مصیبت، میں بناتی ہوں
مجھے دعویٰ ہے شہرِ دلبراں کی چارہ سازی کا
سو جیسی چاہتی ہوں جس کی حالت، میں بناتی ہوں
وہ سارے رنج و غم سب آہ و گریہ خود بناتا ہے
پر اس کی بے وجہ ہنسنے کی عادت میں بناتی ہوں
بھلی جیسی لگے ایسی تو صورت رب بناتا ہے
جو ہونی چاہیے تھی ویسی صورت میں بناتی ہوں
میرا یزداں کےگھر کے قرب میں اک کارخانہ ہے
ضرورت وہ بنا دیتا ہے، مورت میں بناتی ہوں
کبھی سرخی کبھی کاجل میرے ہاتھوں میں ہوتا ہے
سو یوں سمجھو کہ زندانِ محبت میں بناتی ہوں
سہل انداز عاشق کوئی کاوش لے کے آتے ہیں
پھر اس کوشش کو اک کارِ ریاضت میں بناتی ہوں
کٹھن لگنے لگے جب شورش و الزام کی دنیا
چلے آنا! کہ جتنی ہے سہولت میں بناتی ہوں
بناتے ہوں گے کوئے تہمتاں کے لوگ کافی کچھ
اٹھا کے تہمتیں، ان سے حقیقت میں بناتی ہوں
بہت سے خال وخد ہیں اہلِ دل کی نیند کا رخنہ
نظر والوں کی لیکن وہ جو حالت میں بناتی ہوں
ماہ نور رانا
No comments:
Post a Comment