تُو پاس آ نہیں سکتا، تِرا گِلا بھی نہیں
تجھے بھلا نہیں سکتا مِری خطا بھی نہیں
نہ جانے کون سی منزل پہ آ گیا ہوں میں
کہ تیری یاد میں پہلا سا وہ مزا بھی نہیں
نکھار سکتا ہے تِرے جمالِ سادہ کو
وہ غم کا گیت جو تُو نے ابھی سنا بھی نہیں
تِرے لیے میں غمِ دو جہاں بھی سہہ جاؤں
مِرے لیے تِری دنیا میں کچھ روا بھی نہیں
ہوا کچھ ایسا لگاؤ غموں کے شعلوں سے
ہزار بار جلا ہوں مگر جلا بھی نہیں
زمانے بھر کے لیے دل مِرا برا ہی سہی
تِری قسم ہے کچھ ایسا مگر برا بھی نہیں
تِری نگاہ کہ مجرم مجھے بنا بھی گئی
مِرا گناہ کہ سرزد ابھی ہوا بھی نہیں
ازل سے ایسا ہے کچھ آج کا ابھی کا نہیں
یہ دل تو اپنے ٹھکانے کبھی رہا بھی نہیں
یہ کیسی دنیا ہے، غم ہے تو غمگسار نہیں
یہ کیسے اپنے ہیں، اپنوں سے آشنا بھی نہیں
فکر تونسوی
No comments:
Post a Comment