جھوٹا ہوں دھوکے باز ہوں، اچھا نہیں رہا
میں ہو گیا جوان اب بچہ نہیں رہا
اب رو کہ عشق راس تو آتا ہے مگر کم
دیکھا میں بارہا تجھے کہتا نہیں رہا
یہ کہہ رہا تھا آئینہ جھوٹا نہیں ہوں میں
اے ماں! ترا بیٹا، تِرے جانے کے بعد سے
خاموش ہو گیا اگر روتا نہیں رہا
سیلاب تجھ کو چاہیے کہ اپنی راہ لے
کوئی مکان گاؤں میں کچا نہیں رہا
عامر امیر
No comments:
Post a Comment