Saturday, 14 November 2015

دل کو وہی آزار ہے کچھ کرنا پڑے گا

دل کو وہی آزار ہے کچھ کرنا پڑے گا
پھر عشق سے دو چار ہے کچھ کرنا پڑے گا
ہے نام یا عزت یا محبت یا کمائی
ہر کام ہی دشوار ہے کچھ کرنا پڑے گا
یہ حکم ہے بولوں وہی جو حکم ہو اس کا
یہ شاہ کا دربار ہے، کچھ کرنا پڑے گا
نہ عمر ہے، نہ وقت، نہ دنیا ہے موافق
اُس کا مگر اصرار ہے کچھ کرنا پڑے گا
جمہوریت سے بڑھ کے انتقام نہیں ہے
یہ دوستوں کا وار ہے، کچھ کرنا پڑے گا
تیری انا کے تاج محل کی بس ایک اب
یہ آخری دیوار ہے کچھ کرنا پڑے گا
نہ تجھ سے عید مل سکے نہ عید کر سکے
کیا عید کا تہوار ہے، کچھ کرنا پڑے گا
جب مجھ کو اس سے پیار تھا تو اور بات تھی
اب اس کو مجھ سے پیار ہے کچھ کرنا پڑے گا

عامر امیر

No comments:

Post a Comment