دل کو وہی آزار ہے کچھ کرنا پڑے گا
پھر عشق سے دو چار ہے کچھ کرنا پڑے گا
ہے نام یا عزت یا محبت یا کمائی
ہر کام ہی دشوار ہے کچھ کرنا پڑے گا
یہ حکم ہے بولوں وہی جو حکم ہو اس کا
نہ عمر ہے، نہ وقت، نہ دنیا ہے موافق
اُس کا مگر اصرار ہے کچھ کرنا پڑے گا
جمہوریت سے بڑھ کے انتقام نہیں ہے
یہ دوستوں کا وار ہے، کچھ کرنا پڑے گا
تیری انا کے تاج محل کی بس ایک اب
یہ آخری دیوار ہے کچھ کرنا پڑے گا
نہ تجھ سے عید مل سکے نہ عید کر سکے
کیا عید کا تہوار ہے، کچھ کرنا پڑے گا
جب مجھ کو اس سے پیار تھا تو اور بات تھی
اب اس کو مجھ سے پیار ہے کچھ کرنا پڑے گا
عامر امیر
No comments:
Post a Comment