محبت برملا ہے یہ اشاروں سے نہیں ہوتی
سمندر کیا ہے، آگہی کناروں سے نہیں ہوتی
مِری قسمت ہے میرے ہاتھ میں، ہے کون جو بدلے
کہ یہ جرأت تو خود میرے ستاروں سے نہیں ہوتی
کسی اُمت، کسی مِلت کی اونچائی حقیقت میں
مجھے اپنے پیاروں سے کوئی شکوہ نہیں کیونکہ
مجھے کوئی توقع اپنے پیاروں سے نہیں ہوتی
نباہے دیر تک جو دشمنی، وہ سامنے آئے
ہماری دشمنی بے اعتباروں سے نہیں ہوتی
محبت کی، نباہی، اور دشمن کو عطا کر دی
وہ ہم نے بات کی جو آپ ساروں سے نہیں ہوتی
عامر امیر
No comments:
Post a Comment