Saturday, 14 November 2015

محبت برملا ہے یہ اشاروں سے نہیں ہوتی

محبت برملا ہے یہ اشاروں سے نہیں ہوتی 
سمندر کیا ہے، آگہی کناروں سے نہیں ہوتی 
مِری قسمت ہے میرے ہاتھ میں، ہے کون جو بدلے 
کہ یہ جرأت تو خود میرے ستاروں سے نہیں ہوتی 
کسی اُمت، کسی مِلت کی اونچائی حقیقت میں 
معیاروں سے تو ہوتی ہے مِناروں سے نہیں ہوتی 
مجھے اپنے پیاروں سے کوئی شکوہ نہیں کیونکہ 
مجھے کوئی توقع اپنے پیاروں سے نہیں ہوتی 
نباہے دیر تک جو دشمنی، وہ سامنے آئے 
ہماری دشمنی بے اعتباروں سے نہیں ہوتی 
محبت کی، نباہی، اور دشمن کو عطا کر دی 
وہ ہم نے بات کی جو آپ ساروں سے نہیں ہوتی 

عامر امیر

No comments:

Post a Comment