بس ایک وقت کا خنجر میری تلاش میں ہے
جو روز بھیس بدل کر میری تلاش میں ہے
میں ایک قطرہ ہوں، میرا الگ وجود تو ہے
ہُوا کرے جو سمندر میری تلاش میں ہے
میں دیوتا کی طرح قید اپنے مندر میں
میں جس کے ہاتھ میں اک پھول دے کے آیا تھا
اسی کے ہاتھ کا پتھر میری تلاش میں ہے
کرشن بہاری نور
No comments:
Post a Comment