لفظوں کے نگینے تو نکلے کمال کے
غزلوں نے خود پہن لیے زیور نکال کے
ایسا نہ ہو گناہ کی دلدل میں جا پھنسوں
اے میری آرزو! مجھے لے چل سنبھال کے
پچھلے جنم کی گاڑھی کمائی ہے زندگی
موسم ہیں دو ہی عشق کے صورت کوئ بھی ہو
ہیں اس کے پاس آئینے ہجر و وصال کے
یوں زندگی سے کٹتا رہا جڑتا بھی رہا
بچہ کھِلائے جیسے کوئی ماں اچھال کے
یہ تاج، یہ اجنتا الورا کے شاہکار
افسانے لگ رہے ہیں عروج و زوال کے
کرشن بہاری نور
No comments:
Post a Comment