Sunday, 15 November 2015

لفظوں کے نگینے تو نکلے کمال کے

لفظوں کے نگینے تو نکلے کمال کے
غزلوں نے خود پہن لیے زیور نکال کے
ایسا نہ ہو گناہ کی دلدل میں جا پھنسوں
اے میری آرزو! مجھے لے چل سنبھال کے
پچھلے جنم کی گاڑھی کمائی ہے زندگی
سودا جی کا کرنا، کرنا بہت دیکھ بھال کے
موسم ہیں دو ہی عشق کے صورت کوئ بھی ہو
ہیں اس کے پاس آئینے ہجر و وصال کے
یوں زندگی سے کٹتا رہا جڑتا بھی رہا
بچہ کھِلائے جیسے کوئی ماں اچھال کے
یہ تاج، یہ اجنتا الورا کے شاہکار
افسانے لگ رہے ہیں عروج و زوال کے

کرشن بہاری نور

No comments:

Post a Comment