Saturday, 8 October 2022

یہ لال ڈبیا میں جو پڑی ہے وہ منہ دکھائی پڑی رہے گی

 یہ لال ڈبیا میں جو پڑی ہے وہ منہ دکھائی، پڑی رہے گی 

جو میں بھی رُوٹھا تو صبح تک تُو سجی سجائی پڑی رہے گی

نہ تُو نے پہنے جو اپنے ہاتھوں میں میری ان انگلیوں کے کنگن

تو سوچ لے، کتنی سُونی سُونی تِری کلائی پڑی رہے گی

ہمارے گھر سے یوں بھاگ جانے پہ کیا بنے گا، میں سوچتا ہوں

محلے بھر میں کئی مہینوں تلک دُہائی پڑی رہے گی

جہاں پہ کپ کے کنارے پر ایک لپ سٹک کا نشان ہو گا

وہیں پہ اک دو قدم کی دوری پہ ایک ٹائی پڑی رہے گی

ہر ایک کھانے سے پہلے جھگڑا، کھلائے گا کون پہلے لقمہ

ہمارے گھر میں تو ایسی باتوں سے ہی لڑائی پڑی رہے گی

اور اب مٹھائی کی کیا ضرورت، میں تجھ سے مل جل کے جا رہا ہوں

مگر ہے افسوس تیرے ہاتھوں کی رس ملائی پڑی رہے گی

مجھے تو آفس کے آٹھ گھنٹوں سے ہول آتا ہے، سوچ کر یہ

ہمارے مابین روز برسوں کی یہ جدائی پڑی رہے گی؟

جو میری مانو تو میرے آفس میں کوئی مرضی کی جاب کر لو 

کہ ہم نے کیا کام وام کرنا ہے،۔ کارروائی پڑی رہے گی

ہمارے سپنے کچھ اس طرح سے جگائے رکھیں گے رات ساری

کہ دن چڑھے تک تُو میری باہوں میں کسمسائی پڑی رہے گی

اس ایک بستر پہ آج کوئی نئی کہانی جنم نہ لے لے 

اگر یونہی اس پہ سلوٹوں سے بھری رضائی پڑی رہے گی

مِری محبت کے تین درجے ہیں سہلِ مشکل یا غیر ممکن

تُو ایک حصہ ہی جھیل پائے گی، دو تہائی پڑی رہے گی


عامر امیر

No comments:

Post a Comment