آج کی رات
آج کی رات تو سونے کی نہیں ہے جاناں
آج کی رات ہے تجدیدِ ملاقات کی رات
العطش کہتے ہوئے جسم کی پیہم آواز
الاماں کہتی ہوئی روح کی بے چین صدا
تیز بارش کی دعاؤں میں تجھے یاد کیے
ایک مدت سے لیے بوجھ دلِ خستہ پر
تیری خواہش کا، تِرے قُرب کی آسائش کا
ساتھ دیکھے ہوئے خوابوں کا نشہ آنکھوں میں
ساتھ سوچی ہوئی باتوں کی دھنک نظروں میں
رات کے ہاتھ میں کیا ہاتھ دیا ہے دل نے
پاؤں پڑتے ہی نہیں جیسے زمیں پر اس کے
روشنی کیسی رگ و پے میں اُتر آئی ہے
دُور تک صرف تِری شکل نظر آتی ہے
میرے ہاتھوں میں تِرے چہرے کا بے داغ کنول
تازہ بارش میں تو کچھ اور کِھلا جاتا ہے
میری آنکھیں تِرے ہونٹوں کی نمی سے سرشار
ساری دنیا سے چھپائے تِری بانہوں کا حصار
ذہن میں گھومتا ہے پہلے پہل کا ملنا
اورپھر رنگِ ملاقات کا گہرا ہونا
اورپھر ملنے کی خواہش کا سمندر ہونا
دھیرے دھیرے کسی تصویر کے ٹکڑے ملنا
جس کی ترتیب نے دو روحوں کا سمبندھ کیا
اور یہ سچ ہے کہ حیرت کدۂ ہستی میں
ایک پہچان کا لمحہ بھی بہت ہوتا ہے
ہم پہ اس لمحے کا کچھ قرض ہے باقی اب تک
تن میں تن جذب کریں، روح میں روح سموئیں
کہ یہ ساعت ہے تشکر کے لیے
ریگِ صحرا پہ اتر آئی ہے برسات کی رات
آج کی رات ہے تجدیدِ ملاقات کی رات
پروین شاکر
No comments:
Post a Comment