بھر تو دے موت ذرا عمر کے پیمانے کو
وقت لکھے گا لہو سے مِرے افسانے کو
دُشمنِ جاں ہی سہی راہبرِ منزل نہ سہی
روشنی موت دِکھاتی رہی پروانے کو
غم غلط ہوتے تھے میخانے میں کل رات کی بات
موجِ غم آج بہا لے گئی مے خانے کو
دست ہمت کی ہے توہین دعا کیا کرتا
عار سمجھا کیا تقدیر بدلوانے کو
پاؤں سے ان کے نکلتے ہوئے دیکھی ہے زمیں
ہاتھ سے رکھ بھی نہ پائے تھے جو پیمانے کو
راہ تدبیر میں حائل ہو تو کعبہ ڈھا دیں
آج سینے سے لگائے ہیں جو بُت خانے کو
کوشش ضبط نے چہرے کی بدل دی رنگت
کس نے روکا تھا ستم کر کے تڑپ جانے کو
اب یہ قسمت کہ رہوں ذوقِ عمل سے محروم
سر پہ آنکھوں پہ رکھا آپ کے فرمانے کو
کچھ جنوں نے بھی تماشائے خبر دیکھ لیا
کتنے دیوانے بنے دیکھ کے دیوانے کو
نجم آفندی
میرزا تجمل حسین
No comments:
Post a Comment