غم گسار اپنا یہاں اپنے سوا کوئی نہیں
خوب دیکھا ہے جہاں میں با وفا کوئی نہیں
دیکھ کر ظلم و تشدد ہو گیا گُونگا ہر اک
دیکھتی ہیں سب کی آنکھیں بولتا کوئی نہیں
آج کے اس دور کا یہ بھی تو ہے اک سانحہ
غم کے ماروں کے دلوں میں جھانکتا کوئی نہیں
قافلے کو کس طرح منزل ملے گی سوچیے
رہنما کوئی نہیں ہے،۔ راستہ کوئی نہیں
ہر کسی کی سوچ کے اب زاویے ہیں مختلف
جس طرح میں سوچتا ہوں، سوچتا کوئی نہیں
منتظر کوئی نہیں کاوش کا شاید گاؤں میں
اب کسی دیوار پر جلتا دِیا کوئی نہیں
محمود احمد کاوش
No comments:
Post a Comment