Tuesday, 13 April 2021

نہ گھر ہے کوئی نہ سامان کچھ رہا باقی

 نہ گھر ہے کوئی نہ سامان کچھ رہا باقی

نہیں ہے کوئی بھی دنیا میں سلسلہ باقی 

یہ کھیل ختم کرو اقتدار کا یہ کھیل 

کہ ہے قریب اجل کے تِرا گلا باقی 

مقام عبرت فانی سے کون ہے محفوظ

کہ کون حاکمِ اسباب رہ گیا باقی

سکوتِ مرگ کے رستہ پہ کچھ نہیں تھا مگر

کوئی چلا ہی کہاں تھا کہ کب رکا باقی


احمد ہمیش

No comments:

Post a Comment