نہ گھر ہے کوئی نہ سامان کچھ رہا باقی
نہیں ہے کوئی بھی دنیا میں سلسلہ باقی
یہ کھیل ختم کرو اقتدار کا یہ کھیل
کہ ہے قریب اجل کے تِرا گلا باقی
مقام عبرت فانی سے کون ہے محفوظ
کہ کون حاکمِ اسباب رہ گیا باقی
سکوتِ مرگ کے رستہ پہ کچھ نہیں تھا مگر
کوئی چلا ہی کہاں تھا کہ کب رکا باقی
احمد ہمیش
No comments:
Post a Comment