چند سطریں
ایک مچھر کاغذ پہ لکھی تحریر کا خون چوس رہا ہے
تم نہیں دیکھتے
کیسے کوئی مچھر اہلِ محنت کی جد و جہد کا خون چوس کر اپنے حرام وجود کا مظاہرہ کرتا ہے
کر سکو تو کرو
یہ فضا اتنی تعفّن کیوں ہے
میں تو ہر جگہ ٹھہرا ہوا غلط خون دیکھ رہی ہوں
انجلا ہمیش
No comments:
Post a Comment