Tuesday, 13 April 2021

ایک مچھر کاغذ پہ لکھی تحریر کا خون چوس رہا ہے

 چند سطریں


ایک مچھر کاغذ پہ لکھی تحریر کا خون چوس رہا ہے

تم نہیں دیکھتے

کیسے کوئی مچھر اہلِ محنت کی جد و جہد کا خون چوس کر اپنے حرام وجود کا مظاہرہ کرتا ہے

کر سکو تو کرو

یہ فضا اتنی تعفّن کیوں ہے

میں تو ہر جگہ ٹھہرا ہوا غلط خون دیکھ رہی ہوں


انجلا ہمیش

No comments:

Post a Comment