Friday, 3 December 2021

سارے موسم ہیں مہربان سے کچھ

 سارے موسم ہیں مہربان سے کچھ

روز اترتا ہے آسمان سے کچھ

ہر عبارت سوال جیسی ہے

لفظ غائب ہیں درمیان سے کچھ

کس کی لو نے جلا دیا کس کو

راکھ میں ہیں ابھی نشان سے کچھ

کس سے تفسیر ماہ و سال کریں

دن گزرتے ہیں بے امان سے کچھ

کیا خبر یہ کہاں تلک پھیلے

اٹھ رہا ہے دھواں گمان سے کچھ

کارواں کس کا منزلیں کس کی

کیا جھلکتا ہے داستان سے کچھ

ایک تصویر روشنی لے کر

سائے نکلے تو ہیں مکان سے کچھ

اس قدر اعتبار کر لیجے

ربط رکھتا ہوں خاندان سے کچھ

تم بھی اس وقت سے ڈرو لوگو

جب نکل جائے اس زبان سے کچھ


اسحاق اطہر صدیقی

No comments:

Post a Comment