Friday, 3 December 2021

تجھ کو خوابوں میں بسانا چاہتا ہوں

 تجھ کو خوابوں میں بسانا چاہتا ہوں

نیند میں جیون بتانا چاہتا ہوں

چاند اتر آئے زمیں پر اک گھڑی

روبرو میں ان کے لانا چاہتا ہوں

قطرۂ شبنم عطا ہو جائے مجھے

کہ جبینِ شب سجانا چاہتا ہوں

جس میں رشتے سب تصنع سے ہوں پاک

اک گھرانہ یوں بنانا چاہتا ہوں

کاش قسمت سے مجھے مل جائے گُل

خار سے دامن چھڑانا چاہتا ہوں

موت ہے گر منزلِ راہِ حیات

موت سے آنکھیں ملانا چاہتا ہوں

آخری بار اب اٹھا لیں فون کو

آخری ہچکی سنانا چاہتا ہوں

اے ندیم! آ جائیے اک بار ہی

وقتِ رخصت گنگنانا چاہتا ہوں


احمد ندیم جونیجو

No comments:

Post a Comment