تجھ کو خوابوں میں بسانا چاہتا ہوں
نیند میں جیون بتانا چاہتا ہوں
چاند اتر آئے زمیں پر اک گھڑی
روبرو میں ان کے لانا چاہتا ہوں
قطرۂ شبنم عطا ہو جائے مجھے
کہ جبینِ شب سجانا چاہتا ہوں
جس میں رشتے سب تصنع سے ہوں پاک
اک گھرانہ یوں بنانا چاہتا ہوں
کاش قسمت سے مجھے مل جائے گُل
خار سے دامن چھڑانا چاہتا ہوں
موت ہے گر منزلِ راہِ حیات
موت سے آنکھیں ملانا چاہتا ہوں
آخری بار اب اٹھا لیں فون کو
آخری ہچکی سنانا چاہتا ہوں
اے ندیم! آ جائیے اک بار ہی
وقتِ رخصت گنگنانا چاہتا ہوں
احمد ندیم جونیجو
No comments:
Post a Comment