بلا کی دھوپ میں بھی نخلِ سایہ دار ہوں میں
زمیں پہ تیری محبت کا اعتبار ہوں میں
سلگ رہا ہے محبت کی آگ میں وہ شخص
اور اس پہ گرتی ہوئی کوئی آبشار ہوں میں
تمہارے ہاتھ سے نکلوں تو بے کس و مجبور
میں بچنے آئی تھی لیکن بچا رہی ہوں تجھے
تیرے حصار میں تھی اب تیرا حصار ہوں میں
پھر اس کے بعد تو افسوس کا سفر ہے دوست
کہ زندگی میں تیری صرف ایک بار ہوں میں
مجھے ہجوم میں بدلا ہے تیری یادوں نے
کہ ایک ہو کے بھی لگتا ہے بیشمار ہوں میں
تمہیں یقین قمرؔ کس لیے ہے دنیا کا
تمہیں تو میرا پتہ تھا وفا شعار ہوں میں
ریحانہ قمر
No comments:
Post a Comment