شاداب جسم و جاں بھی کہیں رہن کر دئیے
تُو نے مکاں کے ساتھ مکیں رہن کر دئیے
موتی لٹاتی ندیاں، ہیرے اگلتے کھیت
یہ سرزمین و اہلِ زمیں رہن کر دئیے
جو، آہ بھی کِیا نہیں کرتے ہیں ظلم پر
عارض کی لالی، زلف کے پیچ، ابروؤں کے خم
کس کو یہ خد و خالِ حسِیں رہن کر دئیے
لپٹی تھیں کہکشائیں تِرے پاؤں سے، مگر
آفاق اور عرشِ بریں رہن کر دئیے
پڑھ لی، مِری جو آخری حسرت بھری نظر
ارماں بھی، وقت باز پسیں رہن کر دئیے
خالد اقبال یاسر
No comments:
Post a Comment